قرآن کریم » اردو » سورہ تغابن

اردو

سورہ تغابن - آیات کی تعداد 18
يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۖ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ( 1 ) تغابن - الآية 1
جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو چیز زمین میں ہے (سب) خدا کی تسبیح کرتی ہے۔ اسی کی سچی بادشاہی ہے اور اسی کی تعریف (لامتناہی) ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے
هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ فَمِنكُمْ كَافِرٌ وَمِنكُم مُّؤْمِنٌ ۚ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ ( 2 ) تغابن - الآية 2
وہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر کوئی تم میں کافر ہے اور کوئی مومن۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھتا ہے
خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ ۖ وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ ( 3 ) تغابن - الآية 3
اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی برحکمت پیدا کیا اور اسی نے تمہاری صورتیں بنائیں اور صورتیں بھی پاکیزہ بنائیں۔ اور اسی کی طرف (تمہیں) لوٹ کر جانا ہے
يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعْلِنُونَ ۚ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ( 4 ) تغابن - الآية 4
جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب جانتا ہے اور جو کچھ تم چھپا کر کرتے ہو اور جو کھلم کھلا کرتے ہو اس سے بھی آگاہ ہے۔ اور خدا دل کے بھیدوں سے واقف ہے
أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَبَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن قَبْلُ فَذَاقُوا وَبَالَ أَمْرِهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ( 5 ) تغابن - الآية 5
کیا تم کو ان لوگوں کے حال کی خبر نہیں پہنچی جو پہلے کافر ہوئے تھے تو انہوں نے اپنے کاموں کی سزا کا مزہ چکھ لیا اور (ابھی) دکھ دینے والا عذاب (اور) ہونا ہے
ذَٰلِكَ بِأَنَّهُ كَانَت تَّأْتِيهِمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَقَالُوا أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا فَكَفَرُوا وَتَوَلَّوا ۚ وَّاسْتَغْنَى اللَّهُ ۚ وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَمِيدٌ ( 6 ) تغابن - الآية 6
یہ اس لئے کہ ان کے پاس پیغمبر کھلی نشانیاں لے کر آئے تو یہ کہتے کہ کیا آدمی ہمارے ہادی بنتے ہیں؟ تو انہوں نے (ان کو) نہ مانا اور منہ پھیر لیا اور خدا نے بھی بےپروائی کی۔ اور خدا بےپروا (اور) سزاوار حمد (وثنا) ہے
زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَن لَّن يُبْعَثُوا ۚ قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ ۚ وَذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ ( 7 ) تغابن - الآية 7
جو لوگ کافر ہیں ان کا اعتقاد ہے کہ وہ (دوبارہ) ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے۔ کہہ دو کہ ہاں ہاں میرے پروردگار کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے پھر جو کام تم کرتے رہے ہو وہ تمہیں بتائے جائیں گے اور یہ (بات) خدا کو آسان ہے
فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالنُّورِ الَّذِي أَنزَلْنَا ۚ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ ( 8 ) تغابن - الآية 8
تو خدا پر اور اس کے رسول پر اور نور (قرآن) پر جو ہم نے نازل فرمایا ہے ایمان لاؤ۔ اور خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے
يَوْمَ يَجْمَعُكُمْ لِيَوْمِ الْجَمْعِ ۖ ذَٰلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ ۗ وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ وَيَعْمَلْ صَالِحًا يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ وَيُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ( 9 ) تغابن - الآية 9
جس دن وہ تم کو اکھٹا ہونے (یعنی قیامت) کے دن اکھٹا کرے گا وہ نقصان اٹھانے کا دن ہے۔ اور جو شخص خدا پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے وہ اس سے اس کی برائیاں دور کردے گا اور باغہائے بہشت میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے گا۔ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے
وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ خَالِدِينَ فِيهَا ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ ( 10 ) تغابن - الآية 10
اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی اہل ذوزخ ہیں۔ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ اور وہ بری جگہ ہے
مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۗ وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ ۚ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ( 11 ) تغابن - الآية 11
کوئی مصیبت نازل نہیں ہوتی مگر خدا کے حکم سے۔ اور جو شخص خدا پر ایمان لاتا ہے وہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے۔ اور خدا ہر چیز سے باخبر ہے
وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ ۚ فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَإِنَّمَا عَلَىٰ رَسُولِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ( 12 ) تغابن - الآية 12
اور خدا کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اگر تم منہ پھیر لو گے تو ہمارے پیغمبر کے ذمے تو صرف پیغام کا کھول کھول کر پہنچا دینا ہے
اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ( 13 ) تغابن - الآية 13
خدا (جو معبود برحق ہے اس) کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تو مومنوں کو چاہیئے کہ خدا ہی پر بھروسا رکھیں
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ ۚ وَإِن تَعْفُوا وَتَصْفَحُوا وَتَغْفِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ( 14 ) تغابن - الآية 14
مومنو! تمہاری عورتیں اور اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن (بھی) ہیں سو ان سے بچتے رہو۔ اور اگر معاف کردو اور درگزر کرو اور بخش دو تو خدا بھی بخشنے والا مہربان ہے
إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ ۚ وَاللَّهُ عِندَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ ( 15 ) تغابن - الآية 15
تمہارا مال اور تمہاری اولاد تو آزمائش ہے۔ اور خدا کے ہاں بڑا اجر ہے
فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَأَنفِقُوا خَيْرًا لِّأَنفُسِكُمْ ۗ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ( 16 ) تغابن - الآية 16
سو جہاں تک ہوسکے خدا سے ڈرو اور (اس کے احکام کو) سنو اور (اس کے) فرمانبردار رہو اور (اس کی راہ میں) خرچ کرو (یہ) تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اور جو شخص طبعیت کے بخل سے بچایا گیا تو ایسے ہی لوگ راہ پانے والے ہیں
إِن تُقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضَاعِفْهُ لَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۚ وَاللَّهُ شَكُورٌ حَلِيمٌ ( 17 ) تغابن - الآية 17
اگر تم خدا کو (اخلاص اور نیت) نیک (سے) قرض دو گے تو وہ تم کو اس کا دوچند دے گا اور تمہارے گناہ بھی معاف کردے گا۔ اور خدا قدر شناس اور بردبار ہے
عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ( 18 ) تغابن - الآية 18
پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا غالب اور حکمت والا ہے

کتب

  • خضاب کی شرعی حیثیت کتاب وسنت کی روشنی میںیہ مختصر سی چند باتیں ہیں جسے مولف حفظہ اللہ نے اختصار کے ساتھ اس شخص کی فضیلت بیان کی ہے جسکے بال اسلام (کی حالت) میں سفید ہوجائیں, اور وہ حدیثیں ذکر کی ہیں جن میں (بالوں کی رنگائی کیلئے) کالے خضاب, مہندی مع کتم (ایک پودا) اور زرد رنگ کے استعمال کا حکم بیان کیا گیا ہے, نیز اس بارے میں اہل علم کے بعض اقوال کو بھی ذکر کیا ہے تاکہ متلاشی حق کیلئے حق واضح ہوجائے اور یہ بھی معلوم ہو جائے کہ قول رسول صلى اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی کے قول کی کوئی حیثیت نہیں, آپ صلى اللہ علیہ وسلم کی سنت ہی مستحق اتباع ہے گرچہ مخالفت کرنے والے اسکی مخالفت کرتے رہیں. اپنے موضوع پر مختصر اور جامع کتاب ہے ضرور استفادہ کریں.

    تاليف : سعيد بن علي بن وهف قحطاني

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    اصدارات : دفتر تعاون برائے دعوت وتوعية الجاليات ربوہ، رياض

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/327449

    التحميل :خضاب کی شرعی حیثیت کتاب وسنت کی روشنی میں

  • جنازے کے مسائلزیر نظر کتاب میں مصنف نے انسان کی موت سے لیکر اسکی تدفین تک اور تدفین کے بعد اسکے لواحقین کی جذباتی کیفیت اسلام کے مطابق کس طرح ہونی چاہئے اسکو بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے جیسے بیماری اور بیمارپرسی کے احکام, نماز جنازہ سے متعلق احکام ومسائل اور نماز جنازہ کی ادائیگی کا طریقہ کار, تدفین کے احکام, کفن کے احکام, قبروں کی زیارت کے حوالے سے شرعى احکام ومسائل اور انسانی وفات کے بعد اسکے لئے نیکیون کا سلسلہ کسطرح باقی رہ سکتا ہے اسکی وضاحت کے ساتھ ساتھ مروجہ ایصال ثواب کے طریقے اور ان کے بارے میں شرعى راہنمائی پر مبنى مدلل اور جامع ومانع گفتگو فرمائی ہے.

    تاليف : محمد إقبال كيلاني

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/272729

    التحميل :جنازے کے مسائل

  • جادو ٹونہ کے فرد اور معاشرے پر خطرناک اثراتزیر نظر کتاب میں جادو اور ٹونہ کے فرد اور معاشرے پرہونے والے خطرناک اثرات کو انتہائی علمی انداز میں بیان کیا گیا ہے نہایت ہی مفید مضمون ہے ضرور مطالعہ کریں.

    تاليف : صالح بن فوزان الفوزان

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/287422

    التحميل :جادو ٹونہ کے فرد اور معاشرے پر خطرناک اثرات

  • متعہ کی حقیقتمتعہ اسلام کے ابتدائی ادوار میں شرعی مصلحت کے پیش نظر دوران سفر میں کافر عورتوں کے ساتھ مباح تھا اسکے بعد ہمیشہ کیلئے قیامت تک حرام قرار دے دیا گیا جیسا کہ شراب ایک زمانے میں حلال تھی مگر اسکے بعد شریعت نے اسے حرام قرار دیدیا اب شراب نوشی باجماع امت حرام ہے اسی طرح متعہ باجماع امت حرام ہے اس میں دورائے نہیں جو اسکے خلاف ہے وہ اجماع امت کے خلاف ہے. لیکن ان نام نہاد فرقوں میں سے کہ جو اپنی نسبت اسلام کی طرف کرتے ہیں ایک فرقہ ایسا بھی ہے جو متعہ کی حرمت سے انکار کرتا اور اسے حلال قراردیتا ہے- اگر تاریخ اٹھا کر دیکھی جائے تو پتہ یہ چلتا ہے کہ اسلام اور شریعت محمدیہ کی طرف نسبت کرنے والے تمام کے تمام فرق متعہ کی حرمت کے قائل ہیں یہاں تک کہ شیعی فرقوں میں سے بھی تمام فرق متعہ کی حرمت کے قائل ہیں سوائے اثنا عشریہ کے کہ یہ فرقہ اپنی ڈھٹائی کی وجہ سے کسی صورت میں بھی متعہ کی حرمت کو ماننے کیلئے تیار نہیں ہے.زیر مطالعہ کتاب میں انہیں کے باطل شبہات اور جھوٹے اتہامات کا شرعی پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے.

    تاليف : عثمان الخميس

    نظر ثانی کرنے والا : عطاء الرحمن ضياء الله

    ترجمہ کرنے والا : فضل الرحمن رحمانى ندوى

    اصدارات : www.aqeedeh.com فارسی زبان میں

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/293404

    التحميل :متعہ کی حقیقت

  • نذرونیاز اور دعا کی قبولیتعقیدہ توحید ہی وہ بنیاد ہے جس پر محمد بن عبدالله-آپ پر بہترین رحمتیں اور پاکیزہ سلامتی ہو-کی دعوت قائم ہے .اوریہ بنیاد حقیقتا تمام رسولوں کی جولان گاہ ہے.اوراس دعوت پر پختہ عزم کا تقاضا مختلف قسم کی بدعات واباطیل سے جنگ ہے .کیونکہ ہرمسلمان کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے دین میں سوچ بچار کرے اور شریعت اسلامیہ کے مطابق اللہ تعالى کی عبادت بجالائے.اس امت کے اسلاف میں سے پہلے مسلمان اپنے دین کے معاملہ میں ہدایت پرتھے. کیونکہ انکے اعمال بلکہ تمام معاملات قرآن کریم اور سنت مطہرہ کے مطابق ہواکرتے تھے.پھرجب مسلمانوں کی اکثریت اپنے عقائد واعمال میں کتاب وسنت کی سیدھی راہ سے ہٹ گئی توانکے عقائد، مذاہب، سیاست اور احکام کے لحاظ سے کئی فرقے بن گئے . اس انحراف کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان میں بدعات، اباطیل،اورشعبدہ بازی کوفروغ حاصل ہوا. جس سے اعدائے اسلام کو اسلام اور مسلمانوں پرطعنہ زنی کی راہ مل گئی.علمائے اسلام اپنی تالیفات میں ان پرانی ارونئی بدعات سے ڈراتے رہے .انہیں اہم تالیفات میں سے شیخ ابن بازرحمہ اللہ کا "إقامة البراهين" کا یہ رسالہ ہے جودرج ذیل تین رسالوں کے مجموعہ پرمشتمل ہے: 1-نبی صلى اللہ علیہ وسلم سے استغاثہ کا حکم 2-جنوں اور شیطانوں سے استغاثہ اورانکے لئے نذرونیاز کا حکم 3-بدعیہ اور شرکیہ اورادووظائف کو معمول بنانے کا حکم.

    تاليف : عبد العزيز بن عبد الله بن باز

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/351182

    التحميل :نذرونیاز اور دعا کی قبولیت

اختر اللغة

اختر سورہ

کتب

اختر تفسير

المشاركه

Bookmark and Share