قرآن کریم » اردو » سورہ قمر

اردو

سورہ قمر - آیات کی تعداد 55
اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ ( 1 ) قمر - الآية 1
قیامت قریب آ پہنچی اور چاند شق ہوگیا
وَإِن يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ ( 2 ) قمر - الآية 2
اور اگر (کافر) کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ایک ہمیشہ کا جادو ہے
وَكَذَّبُوا وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءَهُمْ ۚ وَكُلُّ أَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ ( 3 ) قمر - الآية 3
اور انہوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی اور ہر کام کا وقت مقرر ہے
وَلَقَدْ جَاءَهُم مِّنَ الْأَنبَاءِ مَا فِيهِ مُزْدَجَرٌ ( 4 ) قمر - الآية 4
اور ان کو ایسے حالات (سابقین) پہنچ چکے ہیں جن میں عبرت ہے
حِكْمَةٌ بَالِغَةٌ ۖ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ ( 5 ) قمر - الآية 5
اور کامل دانائی (کی کتاب بھی) لیکن ڈرانا ان کو کچھ فائدہ نہیں دیتا
فَتَوَلَّ عَنْهُمْ ۘ يَوْمَ يَدْعُ الدَّاعِ إِلَىٰ شَيْءٍ نُّكُرٍ ( 6 ) قمر - الآية 6
تو تم بھی ان کی کچھ پروا نہ کرو۔ جس دن بلانے والا ان کو ایک ناخوش چیز کی طرف بلائے گا
خُشَّعًا أَبْصَارُهُمْ يَخْرُجُونَ مِنَ الْأَجْدَاثِ كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ ( 7 ) قمر - الآية 7
تو آنکھیں نیچی کئے ہوئے قبروں سے نکل پڑیں گے گویا بکھری ہوئی ٹڈیاں
مُّهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ ۖ يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ ( 8 ) قمر - الآية 8
اس بلانے والے کی طرف دوڑتے جاتے ہوں گے۔ کافر کہیں گے یہ دن بڑا سخت ہے
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ فَكَذَّبُوا عَبْدَنَا وَقَالُوا مَجْنُونٌ وَازْدُجِرَ ( 9 ) قمر - الآية 9
ان سے پہلے نوحؑ کی قوم نے بھی تکذیب کی تھی تو انہوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا اور کہا کہ دیوانہ ہے اور انہیں ڈانٹا بھی
فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ ( 10 ) قمر - الآية 10
تو انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ (بار الٓہا) میں (ان کے مقابلے میں) کمزور ہوں تو (ان سے) بدلہ لے
فَفَتَحْنَا أَبْوَابَ السَّمَاءِ بِمَاءٍ مُّنْهَمِرٍ ( 11 ) قمر - الآية 11
پس ہم نے زور کے مینہ سے آسمان کے دہانے کھول دیئے
وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُونًا فَالْتَقَى الْمَاءُ عَلَىٰ أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ ( 12 ) قمر - الآية 12
اور زمین میں چشمے جاری کردیئے تو پانی ایک کام کے لئے جو مقدر ہوچکا تھا جمع ہوگیا
وَحَمَلْنَاهُ عَلَىٰ ذَاتِ أَلْوَاحٍ وَدُسُرٍ ( 13 ) قمر - الآية 13
اور ہم نے نوحؑ کو ایک کشتی پر جو تختوں اور میخوں سے تیار کی گئی تھی سوار کرلیا
تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا جَزَاءً لِّمَن كَانَ كُفِرَ ( 14 ) قمر - الآية 14
وہ ہماری آنکھوں کے سامنے چلتی تھی۔ (یہ سب کچھ) اس شخص کے انتقام کے لئے (کیا گیا) جس کو کافر مانتے نہ تھے
وَلَقَد تَّرَكْنَاهَا آيَةً فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ ( 15 ) قمر - الآية 15
اور ہم نے اس کو ایک عبرت بنا چھوڑا تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے؟
فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ ( 16 ) قمر - الآية 16
سو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا؟
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ ( 17 ) قمر - الآية 17
اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے؟
كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ ( 18 ) قمر - الآية 18
عاد نے بھی تکذیب کی تھی سو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا
إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا صَرْصَرًا فِي يَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ ( 19 ) قمر - الآية 19
ہم نے ان پر سخت منحوس دن میں آندھی چلائی
تَنزِعُ النَّاسَ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنقَعِرٍ ( 20 ) قمر - الآية 20
وہ لوگوں کو (اس طرح) اکھیڑے ڈالتی تھی گویا اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں
فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ ( 21 ) قمر - الآية 21
سو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ ( 22 ) قمر - الآية 22
اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے؟
كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِالنُّذُرِ ( 23 ) قمر - الآية 23
ثمود نے بھی ہدایت کرنے والوں کو جھٹلایا
فَقَالُوا أَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهُ إِنَّا إِذًا لَّفِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ ( 24 ) قمر - الآية 24
اور کہا کہ بھلا ایک آدمی جو ہم ہی میں سے ہے ہم اس کی پیروی کریں؟ یوں ہو تو ہم گمراہی اور دیوانگی میں پڑ گئے
أَأُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِن بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ ( 25 ) قمر - الآية 25
کیا ہم سب میں سے اسی پر وحی نازل ہوئی ہے؟ (نہیں) بلکہ یہ جھوٹا خود پسند ہے
سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْأَشِرُ ( 26 ) قمر - الآية 26
ان کو کل ہی معلوم ہوجائے گا کہ کون جھوٹا خود پسند ہے
إِنَّا مُرْسِلُو النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ فَارْتَقِبْهُمْ وَاصْطَبِرْ ( 27 ) قمر - الآية 27
(اے صالح) ہم ان کی آزمائش کے لئے اونٹنی بھیجنے والے ہیں تو تم ان کو دیکھتے رہو اور صبر کرو
وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ ۖ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ ( 28 ) قمر - الآية 28
اور ان کو آگاہ کردو کہ ان میں پانی کی باری مقرر کر دی گئی ہے۔ ہر (باری والے کو اپنی) باری پر آنا چاہیئے
فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطَىٰ فَعَقَرَ ( 29 ) قمر - الآية 29
تو ان لوگوں نے اپنے رفیق کو بلایا اور اس نے (اونٹنی کو پکڑ کر اس کی) کونچیں کاٹ ڈالیں
فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ ( 30 ) قمر - الآية 30
سو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا
إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ صَيْحَةً وَاحِدَةً فَكَانُوا كَهَشِيمِ الْمُحْتَظِرِ ( 31 ) قمر - الآية 31
ہم نے ان پر (عذاب کے لئے) ایک چیخ بھیجی تو وہ ایسے ہوگئے جیسے باڑ والے کی سوکھی اور ٹوٹی ہوئی باڑ
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ ( 32 ) قمر - الآية 32
اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے؟
كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوطٍ بِالنُّذُرِ ( 33 ) قمر - الآية 33
لوط کی قوم نے بھی ڈر سنانے والوں کو جھٹلایا تھا
إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ حَاصِبًا إِلَّا آلَ لُوطٍ ۖ نَّجَّيْنَاهُم بِسَحَرٍ ( 34 ) قمر - الآية 34
تو ہم نے ان پر کنکر بھری ہوا چلائی مگر لوط کے گھر والے کہ ہم نے ان کو پچھلی رات ہی سے بچا لیا
نِّعْمَةً مِّنْ عِندِنَا ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي مَن شَكَرَ ( 35 ) قمر - الآية 35
اپنے فضل سے۔ شکر کرنے والوں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں
وَلَقَدْ أَنذَرَهُم بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ ( 36 ) قمر - الآية 36
اور لوطؑ نے ان کو ہماری پکڑ سے ڈرایا بھی تھا مگر انہوں نے ڈرانے میں شک کیا
وَلَقَدْ رَاوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ فَطَمَسْنَا أَعْيُنَهُمْ فَذُوقُوا عَذَابِي وَنُذُرِ ( 37 ) قمر - الآية 37
اور ان سے ان کے مہمانوں کو لے لینا چاہا تو ہم نے ان کی آنکھیں مٹا دیں سو (اب) میرے عذاب اور ڈرانے کے مزے چکھو
وَلَقَدْ صَبَّحَهُم بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ ( 38 ) قمر - الآية 38
اور ان پر صبح سویرے ہی اٹل عذاب آ نازل ہوا
فَذُوقُوا عَذَابِي وَنُذُرِ ( 39 ) قمر - الآية 39
تو اب میرے عذاب اور ڈرانے کے مزے چکھو
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ ( 40 ) قمر - الآية 40
اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے؟
وَلَقَدْ جَاءَ آلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُ ( 41 ) قمر - الآية 41
اور قوم فرعون کے پاس بھی ڈر سنانے والے آئے
كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا كُلِّهَا فَأَخَذْنَاهُمْ أَخْذَ عَزِيزٍ مُّقْتَدِرٍ ( 42 ) قمر - الآية 42
انہوں نے ہماری تمام نشانیوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو اس طرح پکڑ لیا جس طرح ایک قوی اور غالب شخص پکڑ لیتا ہے
أَكُفَّارُكُمْ خَيْرٌ مِّنْ أُولَٰئِكُمْ أَمْ لَكُم بَرَاءَةٌ فِي الزُّبُرِ ( 43 ) قمر - الآية 43
(اے اہل عرب) کیا تمہارے کافر ان لوگوں سے بہتر ہیں یا تمہارے لئے (پہلی) کتابوں میں کوئی فارغ خطی لکھ دی گئی ہے
أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُّنتَصِرٌ ( 44 ) قمر - الآية 44
کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری جماعت بڑی مضبوط ہے
سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ ( 45 ) قمر - الآية 45
عنقریب یہ جماعت شکست کھائے گی اور یہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے
بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَىٰ وَأَمَرُّ ( 46 ) قمر - الآية 46
ان کے وعدے کا وقت تو قیامت ہے اور قیامت بڑی سخت اور بہت تلخ ہے
إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ ( 47 ) قمر - الآية 47
بےشک گنہگار لوگ گمراہی اور دیوانگی میں (مبتلا) ہیں
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ ( 48 ) قمر - الآية 48
اس روز منہ کے بل دوزخ میں گھسیٹے جائیں گے اب آگ کا مزہ چکھو
إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ ( 49 ) قمر - الآية 49
ہم نے ہر چیز اندازہٴ مقرر کے ساتھ پیدا کی ہے
وَمَا أَمْرُنَا إِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ ( 50 ) قمر - الآية 50
اور ہمارا حکم تو آنکھ کے جھپکنے کی طرح ایک بات ہوتی ہے
وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا أَشْيَاعَكُمْ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ ( 51 ) قمر - الآية 51
اور ہم تمہارے ہم مذہبوں کو ہلاک کرچکے ہیں تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے؟
وَكُلُّ شَيْءٍ فَعَلُوهُ فِي الزُّبُرِ ( 52 ) قمر - الآية 52
اور جو کچھ انہوں نے کیا، (ان کے) اعمال ناموں میں (مندرج) ہے
وَكُلُّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ مُّسْتَطَرٌ ( 53 ) قمر - الآية 53
(یعنی) ہر چھوٹا اور بڑا کام لکھ دیا گیا ہے
إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَنَهَرٍ ( 54 ) قمر - الآية 54
جو پرہیزگار ہیں وہ باغوں اور نہروں میں ہوں گے
فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِندَ مَلِيكٍ مُّقْتَدِرٍ ( 55 ) قمر - الآية 55
(یعنی) پاک مقام میں ہر طرح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بارگاہ میں

کتب

  • رزق کی کنجیاں کتاب وسنت کی روشنی میںكسبِ معاش كے معاملے میں اللہ تعالى اور رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے بنی نوع انسان کو حیرانی میں ٹامک ٹوئیاں مارتے ہوئے نہیں چھوڑا،بلکہ کتاب وسنت میں رزق کے حصول کے اسباب کوخوب وضاحت سے بیان کردیا گیا ہے، اگرانسانیت ان اسباب کواچھی طرح سمجھکرمضبوطی سے تھام لے اور صحیح اندازمیں ان سے استفادہ کرے تواللہ لوگوں کیلئے ہرجانب سے رزق کے دروازے کھول دے گا- آسمان سے ان پرخیروبرکات نازل فرمائے گا اور زمین سے ان کیلئے گوناگوں اوربیش بہا نعمتیں پیدا فرمائےگا. زیرنظرکتابچہ میں رزق سے تنگ وپریشان لوگوں کیلئے رزق حاصل کرنے کے دس شرعى اسباب بیان کئے گئے ہیں -( 1- اسغفاروتوبہ 2-تقوى 3-اللہ پرکامل توکل-اللہ عزوجل کی عبادت کیلئے فارغ ہونا5- حج وعمرہ میں متابعت 6-صلى رحمى7-اللہ تعالى کی راہ میں خرچ کرنا8-شرعى علوم کے حصول کیلئے وقف ہونے والوں پرخرچ کرنا9- کمزوروں کے ساتھ احسان کرنا10-اللہ تعالى کی راہ میں ہجرت کرنا) شاید مولائے کریم اسمیں ان بھولے بھٹکے برادران اسلام کیلئے راہنمائی کا سامان پیدا فرمادے جوکسب معاش کی کوششوں میں مگن تو ہیں لیکن حصولِ رزق کے شرعی اسباب سے یا توبے خبرہیں یا باخبرہونے کے باوجود انہیں فراموش کرچکے ہیں اورانکے بارے میں غلط فہمیوں کا شکارہیں.

    تاليف : فضل الهي ظهير

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    اصدارات : دفتر تعاون برائے دعوت وتوعية الجاليات سلطانہ رياض

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/344360

    التحميل :رزق کی کنجیاں کتاب وسنت کی روشنی میں

  • نماز سے پہلےزكاه أبناء الشيخ فضل إلهي ظهير.

    تاليف : انس بن عبد الحميد القوز

    اصدارات : دفتر تعاون برائے دعوت وتوعية الجاليات ربوہ، رياض

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/43

    التحميل :نماز سے پہلے

  • دعوتِ اسلامی کو عام کرنے کیلئے صحیح فضائلِ اعمالاسلام میں فضائل اعمال واقوال کی بڑی اہمیت ہے کیونکہ اللہ کی مرضى کا متلاشی انسان ان پرعمل کرکے زیادہ سے زیادہ ثواب کما کر اللہ کو خوش کرنا چاہتا ہے اور پھر اللہ کی رحمتوں اور نعمتوں کو حاصل کرکے اپنی دنیا وآخرت کو اچھی بنانا چاہتا ہے. اسلئے اعمال کی فضیلت اور انکے اجروثواب کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک عام کرنے کی ضرورت ہے. چونکہ فضائل اعمال سے متعلق سب سے مشہور کتاب تبلیغی جماعت کی "تبلیغی نصاب" کی کتاب ہے لیکن اللہ جانتا ہے اسمیں کس قد آزادی سے ضعیف اور موضوع احادیث کو بھردیا گیا ہے- یہی نہیں بلکہ ایسے قصوں اور کہانیوں کو جمع کردیا گیا ہے جو صحیح عقیدہ کے خلاف ہیں- کرامت کے نام پر انہیں قبول کیا جارہا ہے –اللہ تعالى معاف فرمائے ان کے جامع اور مؤلف کو نیز ان پر یقین رکھنے والوں کو- اسی ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ابوحمزہ عبدالخالق صدیقی حفظہ اللہ نے صحیح فضائل اعمال کے نام سے یہ کتاب تالیف فرمائی ’جسکی ترتیب واضافہ کا کام حافظ محمود حفظہ اللہ نے انجام دیا ہے. اس کتاب میں قرآن اورصحیح حدیث کے ذریعہ فضائل اعمال کو جمع کیا گیا ہے’ مواد کا حوالہ بھی دے دیا گیا ہے- اللہ تعالى مؤلف ’ مرتب ’ پبلشرسب کو اپنے انعامات سے نوازے.اہل خیر وطلاب خیر کیلئے اجروثواب کا بہت بڑا موقع ہے کہ اس کتاب کو لوگوں میں مفت تقسیم کرکے ثواب دارین سے مستفید ہوں.

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/385900

    التحميل :دعوتِ اسلامی کو عام کرنے کیلئے صحیح فضائلِ اعمال

  • (ايران ، لبنان و خليجي ممالك میں سرگرم تنظیم) حزب اللہ کون ہے؟حزب الله كون ہے؟ :لبنان کی شیعہ تنظیم حزب اللہ کی حقیقت حال سے نا واقفیت کی بنا پر بہت سارے مسلمان دھوکہ کھا گئےٍ ہیں –حتى کہ کچھ جاہل سنی مسلمان اس تنظیم کے سربراہ حسن نصراللہ کو مسلمانوں کا ہیروقراردے رہے ہیں- اور اسے خراج تحسین پیش کرنے کیلئےاس کے سرکو بوسہ دینے کی دعوت دے رہے ہیں- یقیناً یہ بہت بڑی جہالت کی بات ہے جسکا سبب اس تنظیم کی اصلیت’ انکے عقائد’مقاصد اور انکی تاریخی حیثیت سے ناواقفیت ہے جوکہ بے گناہ سنی مسلمانوں کے خون سے آلودہ ہے.اللہ عمرفاروق پررحم فرمائے انہوں نے کیا خوب فرمایا ہے: "یقیناً اسلام کی گرہیں ایک ایک کرکے کھلتی جائیں گی جب اسلام میں ایسے لوگ داخل ہوجائیں گے جو جاہلیت سے ناواقف ہوں گے"-کتاب مذکور میں چند ایسے بنیادی سوالوں کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو حزب اللہ کی اصلیت کو واضح کردے اور اسکے مخفی گھناؤنے چہرے کو سنّی مسلمانوں کے سامنے بے نقاب کردے. نہایت ہی مفید کتاب ہے ضرور مطالعہ کریں.

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/340027

    التحميل :(ايران ، لبنان و خليجي ممالك میں سرگرم تنظیم) حزب اللہ کون ہے؟

  • شرح بلوغ المرام من أدلة الأحكاماحكام ومسائل پر مشتمل مختصر اور آسان ترین کتابوں میں سے سب سے جامع اگر ’بلوغ المرام‘ کو قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا جس کے مؤلف بلند پایہ امام حافظ ابن حجر عسقلانی ہیں۔ بلوغ المرام کو جہاں مدارس دینیہ کے ابتدائی طلباء کے لیے بطور نصاب مقرر کیا گیا وہیں عوام میں بھی اسے بہت پذیرائی سے نوازا گیا۔ کتاب کی افادیت کو دیکھتے ہوئے عالم اسلام کی ممتاز شخصیت مولانا صفی الرحمن مبارکپوری نے اس کی عربی میں مختصر سی شرح بھی کی۔ زیر نظر کتاب اسی کتاب کا اردو ترجمہ ہے جس کے مطالعے سے آپ کو نماز، روزہ، حج ، اور زکوۃ سے لے کر نکاح وجہاد تک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں قرآن کریم کی عملی تفسیر دیکھنے کو ملے گی۔

    تاليف : صفي الرحمن المباركفوري - حافظ ابن حجر عسقلانی

    ترجمہ کرنے والا : عبد الوكيل علوى

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/289332

    التحميل :شرح بلوغ المرام من أدلة الأحكامشرح بلوغ المرام من أدلة الأحكام

اختر اللغة

اختر سورہ

کتب

اختر تفسير

المشاركه

Bookmark and Share