قرآن کریم » اردو » سورہ ذاریات

اردو

سورہ ذاریات - آیات کی تعداد 60
وَالذَّارِيَاتِ ذَرْوًا ( 1 ) ذاریات - الآية 1
بکھیرنے والیوں کی قسم جو اُڑا کر بکھیر دیتی ہیں
فَالْحَامِلَاتِ وِقْرًا ( 2 ) ذاریات - الآية 2
پھر (پانی کا) بوجھ اٹھاتی ہیں
فَالْجَارِيَاتِ يُسْرًا ( 3 ) ذاریات - الآية 3
پھر آہستہ آہستہ چلتی ہیں
فَالْمُقَسِّمَاتِ أَمْرًا ( 4 ) ذاریات - الآية 4
پھر چیزیں تقسیم کرتی ہیں
إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَصَادِقٌ ( 5 ) ذاریات - الآية 5
کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ سچا ہے
وَإِنَّ الدِّينَ لَوَاقِعٌ ( 6 ) ذاریات - الآية 6
اور انصاف (کا دن) ضرور واقع ہوگا
وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْحُبُكِ ( 7 ) ذاریات - الآية 7
اور آسمان کی قسم جس میں رسے ہیں
إِنَّكُمْ لَفِي قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ ( 8 ) ذاریات - الآية 8
کہ (اے اہل مکہ) تم ایک متناقض بات میں (پڑے ہوئے) ہو
يُؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ أُفِكَ ( 9 ) ذاریات - الآية 9
اس سے وہی پھرتا ہے جو (خدا کی طرف سے) پھیرا جائے
قُتِلَ الْخَرَّاصُونَ ( 10 ) ذاریات - الآية 10
اٹکل دوڑانے والے ہلاک ہوں
الَّذِينَ هُمْ فِي غَمْرَةٍ سَاهُونَ ( 11 ) ذاریات - الآية 11
جو بےخبری میں بھولے ہوئے ہیں
يَسْأَلُونَ أَيَّانَ يَوْمُ الدِّينِ ( 12 ) ذاریات - الآية 12
پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب ہوگا؟
يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ ( 13 ) ذاریات - الآية 13
اُس دن (ہوگا) جب ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا
ذُوقُوا فِتْنَتَكُمْ هَٰذَا الَّذِي كُنتُم بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ ( 14 ) ذاریات - الآية 14
اب اپنی شرارت کا مزہ چکھو۔ یہ وہی ہے جس کے لئے تم جلدی مچایا کرتے تھے
إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ ( 15 ) ذاریات - الآية 15
بےشک پرہیزگار بہشتوں اور چشموں میں (عیش کر رہے) ہوں گے
آخِذِينَ مَا آتَاهُمْ رَبُّهُمْ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا قَبْلَ ذَٰلِكَ مُحْسِنِينَ ( 16 ) ذاریات - الآية 16
اور) جو جو (نعمتیں) ان کا پروردگار انہیں دیتا ہوگا ان کو لے رہے ہوں گے۔ بےشک وہ اس سے پہلے نیکیاں کرتے تھے
كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ ( 17 ) ذاریات - الآية 17
رات کے تھوڑے سے حصے میں سوتے تھے
وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ ( 18 ) ذاریات - الآية 18
اور اوقات سحر میں بخشش مانگا کرتے تھے
وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ ( 19 ) ذاریات - الآية 19
اور ان کے مال میں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے (دونوں) کا حق ہوتا تھا
وَفِي الْأَرْضِ آيَاتٌ لِّلْمُوقِنِينَ ( 20 ) ذاریات - الآية 20
اور یقین کرنے والوں کے لئے زمین میں (بہت سی) نشانیاں ہیں
وَفِي أَنفُسِكُمْ ۚ أَفَلَا تُبْصِرُونَ ( 21 ) ذاریات - الآية 21
اور خود تمہارے نفوس میں تو کیا تم دیکھتے نہیں؟
وَفِي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ ( 22 ) ذاریات - الآية 22
اور تمہارا رزق اور جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے آسمان میں ہے
فَوَرَبِّ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِنَّهُ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَا أَنَّكُمْ تَنطِقُونَ ( 23 ) ذاریات - الآية 23
تو آسمانوں اور زمین کے مالک کی قسم! یہ (اسی طرح) قابل یقین ہے جس طرح تم بات کرتے ہو
هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ ضَيْفِ إِبْرَاهِيمَ الْمُكْرَمِينَ ( 24 ) ذاریات - الآية 24
بھلا تمہارے پاس ابراہیمؑ کے معزز مہمانوں کی خبر پہنچی ہے؟
إِذْ دَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَالُوا سَلَامًا ۖ قَالَ سَلَامٌ قَوْمٌ مُّنكَرُونَ ( 25 ) ذاریات - الآية 25
جب وہ ان کے پاس آئے تو سلام کہا۔ انہوں نے بھی (جواب میں) سلام کہا (دیکھا تو) ایسے لوگ کہ نہ جان نہ پہچان
فَرَاغَ إِلَىٰ أَهْلِهِ فَجَاءَ بِعِجْلٍ سَمِينٍ ( 26 ) ذاریات - الآية 26
تو اپنے گھر جا کر ایک (بھنا ہوا) موٹا بچھڑا لائے
فَقَرَّبَهُ إِلَيْهِمْ قَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ ( 27 ) ذاریات - الآية 27
(اور کھانے کے لئے) ان کے آگے رکھ دیا۔ کہنے لگے کہ آپ تناول کیوں نہیں کرتے؟
فَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً ۖ قَالُوا لَا تَخَفْ ۖ وَبَشَّرُوهُ بِغُلَامٍ عَلِيمٍ ( 28 ) ذاریات - الآية 28
اور دل میں ان سے خوف معلوم کیا۔ (انہوں نے) کہا کہ خوف نہ کیجیئے۔ اور ان کو ایک دانشمند لڑکے کی بشارت بھی سنائی
فَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ فِي صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَقَالَتْ عَجُوزٌ عَقِيمٌ ( 29 ) ذاریات - الآية 29
تو ابراہیمؑ کی بیوی چلاّتی آئی اور اپنا منہ پیٹ کر کہنے لگی کہ (اے ہے ایک تو) بڑھیا اور (دوسرے) بانجھ
قَالُوا كَذَٰلِكِ قَالَ رَبُّكِ ۖ إِنَّهُ هُوَ الْحَكِيمُ الْعَلِيمُ ( 30 ) ذاریات - الآية 30
(انہوں نے) کہا (ہاں) تمہارے پروردگار نے یوں ہی فرمایا ہے۔ وہ بےشک صاحبِ حکمت (اور) خبردار ہے
قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ أَيُّهَا الْمُرْسَلُونَ ( 31 ) ذاریات - الآية 31
ابراہیمؑ نے کہا کہ فرشتو! تمہارا مدعا کیا ہے؟
قَالُوا إِنَّا أُرْسِلْنَا إِلَىٰ قَوْمٍ مُّجْرِمِينَ ( 32 ) ذاریات - الآية 32
انہوں نے کہا کہ ہم گنہگار لوگوں کی طرف بھیجے گئے ہیں
لِنُرْسِلَ عَلَيْهِمْ حِجَارَةً مِّن طِينٍ ( 33 ) ذاریات - الآية 33
تاکہ ان پر کھنگر برسائیں
مُّسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِينَ ( 34 ) ذاریات - الآية 34
جن پر حد سے بڑھ جانے والوں کے لئے تمہارے پروردگار کے ہاں سے نشان کردیئے گئے ہیں
فَأَخْرَجْنَا مَن كَانَ فِيهَا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ( 35 ) ذاریات - الآية 35
تو وہاں جتنے مومن تھے ان کو ہم نے نکال لیا
فَمَا وَجَدْنَا فِيهَا غَيْرَ بَيْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِينَ ( 36 ) ذاریات - الآية 36
اور اس میں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا
وَتَرَكْنَا فِيهَا آيَةً لِّلَّذِينَ يَخَافُونَ الْعَذَابَ الْأَلِيمَ ( 37 ) ذاریات - الآية 37
اور جو لوگ عذاب الیم سے ڈرتے ہیں ان کے لئے وہاں نشانی چھوڑ دی
وَفِي مُوسَىٰ إِذْ أَرْسَلْنَاهُ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ ( 38 ) ذاریات - الآية 38
اور موسیٰ (کے حال) میں (بھی نشانی ہے) جب ہم نے ان کو فرعون کی طرف کھلا ہوا معجزہ دے کر بھیجا
فَتَوَلَّىٰ بِرُكْنِهِ وَقَالَ سَاحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ ( 39 ) ذاریات - الآية 39
تو اس نے اپنی جماعت (کے گھمنڈ) پر منہ موڑ لیا اور کہنے لگا یہ تو جادوگر ہے یا دیوانہ
فَأَخَذْنَاهُ وَجُنُودَهُ فَنَبَذْنَاهُمْ فِي الْيَمِّ وَهُوَ مُلِيمٌ ( 40 ) ذاریات - الآية 40
تو ہم نے اس کو اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا اور ان کو دریا میں پھینک دیا اور وہ کام ہی قابل ملامت کرتا تھا
وَفِي عَادٍ إِذْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الرِّيحَ الْعَقِيمَ ( 41 ) ذاریات - الآية 41
اور عاد (کی قوم کے حال) میں بھی (نشانی ہے) جب ہم نے ان پر نامبارک ہوا چلائی
مَا تَذَرُ مِن شَيْءٍ أَتَتْ عَلَيْهِ إِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِيمِ ( 42 ) ذاریات - الآية 42
وہ جس چیز پر چلتی اس کو ریزہ ریزہ کئے بغیر نہ چھوڑتی
وَفِي ثَمُودَ إِذْ قِيلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوا حَتَّىٰ حِينٍ ( 43 ) ذاریات - الآية 43
اور (قوم) ثمود (کے حال) میں (نشانی ہے) جب ان سے کہا گیا کہ ایک وقت تک فائدہ اٹھالو
فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ وَهُمْ يَنظُرُونَ ( 44 ) ذاریات - الآية 44
تو انہوں نے اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی۔ سو ان کو کڑک نے آ پکڑا اور وہ دیکھ رہے تھے
فَمَا اسْتَطَاعُوا مِن قِيَامٍ وَمَا كَانُوا مُنتَصِرِينَ ( 45 ) ذاریات - الآية 45
پھر وہ نہ تو اُٹھنے کی طاقت رکھتے تھے اور نہ مقابلہ ہی کرسکتے تھے
وَقَوْمَ نُوحٍ مِّن قَبْلُ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ ( 46 ) ذاریات - الآية 46
اور اس سے پہلے (ہم) نوح کی قوم کو (ہلاک کرچکے تھے) بےشک وہ نافرمان لوگ تھے
وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ ( 47 ) ذاریات - الآية 47
اور آسمانوں کو ہم ہی نے ہاتھوں سے بنایا اور ہم کو سب مقدور ہے
وَالْأَرْضَ فَرَشْنَاهَا فَنِعْمَ الْمَاهِدُونَ ( 48 ) ذاریات - الآية 48
اور زمین کو ہم ہی نے بچھایا تو (دیکھو) ہم کیا خوب بچھانے والے ہیں
وَمِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ( 49 ) ذاریات - الآية 49
اور ہر چیز کی ہم نے دو قسمیں بنائیں تاکہ تم نصیحت پکڑو
فَفِرُّوا إِلَى اللَّهِ ۖ إِنِّي لَكُم مِّنْهُ نَذِيرٌ مُّبِينٌ ( 50 ) ذاریات - الآية 50
تو تم لوگ خدا کی طرف بھاگ چلو میں اس کی طرف سے تم کو صریح رستہ بتانے والا ہوں
وَلَا تَجْعَلُوا مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ ۖ إِنِّي لَكُم مِّنْهُ نَذِيرٌ مُّبِينٌ ( 51 ) ذاریات - الآية 51
اور خدا کے ساتھ کسی اَور کو معبود نہ بناؤ۔ میں اس کی طرف سے تم کو صریح رستہ بتانے والا ہوں
كَذَٰلِكَ مَا أَتَى الَّذِينَ مِن قَبْلِهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا قَالُوا سَاحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ ( 52 ) ذاریات - الآية 52
اسی طرح ان سے پہلے لوگوں کے پاس جو پیغمبر آتا وہ اس کو جادوگر یا دیوانہ کہتے
أَتَوَاصَوْا بِهِ ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُونَ ( 53 ) ذاریات - الآية 53
کیا یہ کہ ایک دوسرے کو اسی بات کی وصیت کرتے آئے ہیں بلکہ یہ شریر لوگ ہیں
فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَا أَنتَ بِمَلُومٍ ( 54 ) ذاریات - الآية 54
تو ان سے اعراض کرو۔ تم کو (ہماری) طرف سے ملامت نہ ہوگی
وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَىٰ تَنفَعُ الْمُؤْمِنِينَ ( 55 ) ذاریات - الآية 55
اور نصیحت کرتے رہو کہ نصیحت مومنوں کو نفع دیتی ہے
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ( 56 ) ذاریات - الآية 56
اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ میری عبادت کریں
مَا أُرِيدُ مِنْهُم مِّن رِّزْقٍ وَمَا أُرِيدُ أَن يُطْعِمُونِ ( 57 ) ذاریات - الآية 57
میں ان سے طالب رزق نہیں اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ مجھے (کھانا) کھلائیں
إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ ( 58 ) ذاریات - الآية 58
خدا ہی تو رزق دینے والا زور آور اور مضبوط ہے
فَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا ذَنُوبًا مِّثْلَ ذَنُوبِ أَصْحَابِهِمْ فَلَا يَسْتَعْجِلُونِ ( 59 ) ذاریات - الآية 59
کچھ شک نہیں کہ ان ظالموں کے لئے بھی (عذاب کی) نوبت مقرر ہے جس طرح ان کے ساتھیوں کی نوبت تھی تو ان کو مجھ سے (عذاب) جلدی نہیں طلب کرنا چاہیئے
فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُوا مِن يَوْمِهِمُ الَّذِي يُوعَدُونَ ( 60 ) ذاریات - الآية 60
جس دن کا ان کافروں سے وعدہ کیا جاتا ہے اس سے ان کے لئے خرابی ہے

کتب

  • آل واصحاب کی تاریخ کا مطالعہ کیسے کریں؟آل واصحاب کی تاریخ کا مطالعہ کیسے کریں؟ زیرنظر کتاب میں مولف حفظہ اللہ نے تاریخی کتابوں سے صحیح طور پر فائدہ اٹھانے کے اہم نشانات کو واضح کیا ہے’ خصوصاً ان کتابوں سے جنکا تعلق خلفائے راشدین کی تاریخ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے حالاتِ زندگی اور رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت سے ہے- اس کتاب کی تقدیم شیخ عائض القرنی اور شیخ حاتم بن عارف العونی حفظہما اللہ نے پیش کی ہے. نہایت ہی عمدہ کتاب ہے ضرور مطالعہ کریں.

    تاليف : عبد الکریم بن خالد حربی

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    اصدارات : مركز البحوث في مبرة الآل والأصحاب

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/339056

    التحميل :آل واصحاب کی تاریخ کا مطالعہ کیسے کریں؟

  • دعوتِ اسلامی کو عام کرنے کیلئے صحیح فضائلِ اعمالاسلام میں فضائل اعمال واقوال کی بڑی اہمیت ہے کیونکہ اللہ کی مرضى کا متلاشی انسان ان پرعمل کرکے زیادہ سے زیادہ ثواب کما کر اللہ کو خوش کرنا چاہتا ہے اور پھر اللہ کی رحمتوں اور نعمتوں کو حاصل کرکے اپنی دنیا وآخرت کو اچھی بنانا چاہتا ہے. اسلئے اعمال کی فضیلت اور انکے اجروثواب کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک عام کرنے کی ضرورت ہے. چونکہ فضائل اعمال سے متعلق سب سے مشہور کتاب تبلیغی جماعت کی "تبلیغی نصاب" کی کتاب ہے لیکن اللہ جانتا ہے اسمیں کس قد آزادی سے ضعیف اور موضوع احادیث کو بھردیا گیا ہے- یہی نہیں بلکہ ایسے قصوں اور کہانیوں کو جمع کردیا گیا ہے جو صحیح عقیدہ کے خلاف ہیں- کرامت کے نام پر انہیں قبول کیا جارہا ہے –اللہ تعالى معاف فرمائے ان کے جامع اور مؤلف کو نیز ان پر یقین رکھنے والوں کو- اسی ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ابوحمزہ عبدالخالق صدیقی حفظہ اللہ نے صحیح فضائل اعمال کے نام سے یہ کتاب تالیف فرمائی ’جسکی ترتیب واضافہ کا کام حافظ محمود حفظہ اللہ نے انجام دیا ہے. اس کتاب میں قرآن اورصحیح حدیث کے ذریعہ فضائل اعمال کو جمع کیا گیا ہے’ مواد کا حوالہ بھی دے دیا گیا ہے- اللہ تعالى مؤلف ’ مرتب ’ پبلشرسب کو اپنے انعامات سے نوازے.اہل خیر وطلاب خیر کیلئے اجروثواب کا بہت بڑا موقع ہے کہ اس کتاب کو لوگوں میں مفت تقسیم کرکے ثواب دارین سے مستفید ہوں.

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/385900

    التحميل :دعوتِ اسلامی کو عام کرنے کیلئے صحیح فضائلِ اعمال

  • شرح بلوغ المرام من أدلة الأحكاماحكام ومسائل پر مشتمل مختصر اور آسان ترین کتابوں میں سے سب سے جامع اگر ’بلوغ المرام‘ کو قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا جس کے مؤلف بلند پایہ امام حافظ ابن حجر عسقلانی ہیں۔ بلوغ المرام کو جہاں مدارس دینیہ کے ابتدائی طلباء کے لیے بطور نصاب مقرر کیا گیا وہیں عوام میں بھی اسے بہت پذیرائی سے نوازا گیا۔ کتاب کی افادیت کو دیکھتے ہوئے عالم اسلام کی ممتاز شخصیت مولانا صفی الرحمن مبارکپوری نے اس کی عربی میں مختصر سی شرح بھی کی۔ زیر نظر کتاب اسی کتاب کا اردو ترجمہ ہے جس کے مطالعے سے آپ کو نماز، روزہ، حج ، اور زکوۃ سے لے کر نکاح وجہاد تک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں قرآن کریم کی عملی تفسیر دیکھنے کو ملے گی۔

    تاليف : صفي الرحمن المباركفوري - حافظ ابن حجر عسقلانی

    ترجمہ کرنے والا : عبد الوكيل علوى

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/289332

    التحميل :شرح بلوغ المرام من أدلة الأحكامشرح بلوغ المرام من أدلة الأحكام

  • توحید سب سے پہلے اے داعیان اسلام!يہ انتہائی عظیم اورنفع بخش رسالہ ہے جو ایک سوال کا جواب ہے جسے محدث عصر شیخ محمد ناصرالدین البانی رحمہ اللہ نے دیا ہے اور وہ سوال مجمل طور پر مندرجہ ذیل ہے: وہ کیا طریقہ کار ہے جو مسلمانوں کو عروج کی جانب لے جائے اور وہ کیا راستہ ہے کہ جسے اختیارکرنے پراللہ تعالى انہیں زمین پر غلبہ عطا کرے گا اور دیگر امتوں کے درمیان جوانکا شایان شان مقام ہے اس پر فائز کرے گا؟ پس علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس سوال کا نہایت ہی مفصل اور واضح جواب ارشاد فرمایا جسکی افادیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے نہایت ہی مفید مضمون ہے ضرور مطالعہ کریں.

    تاليف : محمد ناصر الدين الألباني

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/289537

    التحميل :توحید سب سے پہلے اے داعیان اسلام!

  • 70 سچے اسلامى واقعاتفی زمانہ جبکےبچے بڑے جھوٹے اورلغو افسانوں ،ناولوں اورکہانیوں کے قصوں میں گرفتارنظرآتےہیں ،ایسی کتابوں کی بہت زیادہ ضرورت ہے،جس میں سچے واقعات بیان کئے گئے ہوں ۔جنہیں پڑھ کرعمل کاجذبہ بیدارہو۔ زیرنظرکتاب میں سیرت نبوی اورتاریخ اسلام سے ایسے ہی 70 واقعات کا انتخاب پیش کیاگیاہے ،جن کےمطالعہ سے ایمان کوتازگی اورروح کو شادابی نصیب ہوتی ہے۔نیزدل میں صحابہ کرام اورسلف صالحین کی عظمت اوران سے محبت کاجذبہ پیداہوتاہے۔ضرورت اس امرکی ہے کہ اس طرح کا لٹریچرعام کیاجائے اورگھروں میں خصوصاً بچوں اورخواتین کوان کےمطالعے کی ترغیب دی جائے تاکہ وہ جھوٹے اور فحش ناولوں میں وقت ضائع کرنےکے بجائے سیرت سلف سے روشناس ہوسکیں۔

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/320008

    التحميل :70 سچے اسلامى واقعات

اختر اللغة

اختر سورہ

کتب

اختر تفسير

المشاركه

Bookmark and Share