قرآن کریم » اردو » سورہ لقمان

اردو

سورہ لقمان - آیات کی تعداد 34
الم ( 1 ) لقمان - الآية 1
الٓمٓ
تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْحَكِيمِ ( 2 ) لقمان - الآية 2
یہ حکمت کی (بھری ہوئی) کتاب کی آیتیں ہیں
هُدًى وَرَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِينَ ( 3 ) لقمان - الآية 3
نیکوکاروں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے
الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُم بِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ ( 4 ) لقمان - الآية 4
جو نماز کی پابندی کرتے اور زکوٰة دیتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں
أُولَٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ( 5 ) لقمان - الآية 5
یہی اپنے پروردگار (کی طرف) سے ہدایت پر ہیں اور یہی نجات پانے والے ہیں
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا ۚ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ ( 6 ) لقمان - الآية 6
اور لوگوں میں بعض ایسا ہے جو بیہودہ حکایتیں خریدتا ہے تاکہ( لوگوں کو) بےسمجھے خدا کے رستے سے گمراہ کرے اور اس سے استہزاء کرے یہی لوگ ہیں جن کو ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا
وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ آيَاتُنَا وَلَّىٰ مُسْتَكْبِرًا كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا كَأَنَّ فِي أُذُنَيْهِ وَقْرًا ۖ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ( 7 ) لقمان - الآية 7
اور جب اس کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو اکڑ کر منہ پھیر لیتا ہے گویا اُن کو سنا ہی نہیں جیسے اُن کے کانوں میں ثقل ہے تو اس کو درد دینے والے عذاب کی خوشخبری سنادو
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَهُمْ جَنَّاتُ النَّعِيمِ ( 8 ) لقمان - الآية 8
جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے اُن کے لئے نعمت کے باغ ہیں
خَالِدِينَ فِيهَا ۖ وَعْدَ اللَّهِ حَقًّا ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ( 9 ) لقمان - الآية 9
ہمیشہ اُن میں رہیں گے۔ خدا کا وعدہ سچا ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے
خَلَقَ السَّمَاوَاتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ۖ وَأَلْقَىٰ فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَن تَمِيدَ بِكُمْ وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَابَّةٍ ۚ وَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَنبَتْنَا فِيهَا مِن كُلِّ زَوْجٍ كَرِيمٍ ( 10 ) لقمان - الآية 10
اُسی نے آسمانوں کو ستونوں کے بغیر پیدا کیا جیسا کہ تم دیکھتے ہو اور زمین پر پہاڑ (بنا کر) رکھ دیئے تاکہ تم کو ہلا ہلا نہ دے اور اس میں ہر طرح کے جانور پھیلا دیئے۔ اور ہم ہی نے آسمانوں سے پانی نازل کیا پھر (اُس سے) اس میں ہر قسم کی نفیس چیزیں اُگائیں
هَٰذَا خَلْقُ اللَّهِ فَأَرُونِي مَاذَا خَلَقَ الَّذِينَ مِن دُونِهِ ۚ بَلِ الظَّالِمُونَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ( 11 ) لقمان - الآية 11
یہ تو خدا کی پیدائش ہے تو مجھے دکھاؤ کہ خدا کے سوا جو لوگ ہیں اُنہوں نے کیا پیدا کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ ظالم صریح گمراہی میں ہیں
وَلَقَدْ آتَيْنَا لُقْمَانَ الْحِكْمَةَ أَنِ اشْكُرْ لِلَّهِ ۚ وَمَن يَشْكُرْ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ ۖ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ ( 12 ) لقمان - الآية 12
اور ہم نے لقمان کو دانائی بخشی۔ کہ خدا کا شکر کرو۔ اور جو شخص شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے۔ اور جو ناشکری کرتا ہے تو خدا بھی بےپروا اور سزاوار حمد (وثنا) ہے
وَإِذْ قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ ( 13 ) لقمان - الآية 13
اور (اُس وقت کو یاد کرو) جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ بیٹا خدا کے ساتھ شرک نہ کرنا۔ شرک تو بڑا (بھاری) ظلم ہے
وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ ( 14 ) لقمان - الآية 14
اور ہم نے انسان کو جسے اُس کی ماں تکلیف پر تکلیف سہہ کر پیٹ میں اُٹھائے رکھتی ہے (پھر اس کو دودھ پلاتی ہے) اور( آخرکار) دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہوتا ہے (اپنے نیز) اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید کی ہے کہ میرا بھی شکر کرتا رہ اور اپنے ماں باپ کا بھی (کہ تم کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے
وَإِن جَاهَدَاكَ عَلَىٰ أَن تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۖ وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا ۖ وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّ ۚ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ( 15 ) لقمان - الآية 15
اور اگر وہ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک کرے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو ان کا کہا نہ ماننا۔ ہاں دنیا (کے کاموں) میں ان کا اچھی طرح ساتھ دینا اور جو شخص میری طرف رجوع لائے اس کے رستے پر چلنا پھر تم کو میری طرف لوٹ کر آنا ہے۔ تو جو کام تم کرتے رہے میں سب سے تم کو آگاہ کروں گا
يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ ( 16 ) لقمان - الآية 16
( لقمان نے یہ بھی کہا کہ) بیٹا اگر کوئی عمل (بالفرض) رائی کے دانے کے برابر بھی (چھوٹا) ہو اور ہو بھی کسی پتھر کے اندر یا آسمانوں میں (مخفی ہو) یا زمین میں۔ خدا اُس کو قیامت کے دن لاموجود کرے گا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا باریک بین (اور) خبردار ہے
يَا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلَاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنكَرِ وَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا أَصَابَكَ ۖ إِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ ( 17 ) لقمان - الآية 17
بیٹا نماز کی پابندی رکھنا اور (لوگوں کو) اچھے کاموں کے کرنے کا امر اور بری باتوں سے منع کرتے رہنا اور جو مصیبت تجھ پر واقع ہو اس پر صبر کرنا۔ بیشک یہ بڑی ہمت کے کام ہیں
وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا ۖ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ ( 18 ) لقمان - الآية 18
اور (ازراہ غرور) لوگوں سے گال نہ پھلانا اور زمین میں اکڑ کر نہ چلنا۔ کہ خدا کسی اترانے والے خود پسند کو پسند نہیں کرتا
وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِن صَوْتِكَ ۚ إِنَّ أَنكَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ ( 19 ) لقمان - الآية 19
اور اپنی چال میں اعتدال کئے رہنا اور (بولتے وقت) آواز نیچی رکھنا کیونکہ (اُونچی آواز گدھوں کی ہے اور کچھ شک نہیں کہ) سب آوازوں سے بُری آواز گدھوں کی ہے
أَلَمْ تَرَوْا أَنَّ اللَّهَ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً ۗ وَمِنَ النَّاسِ مَن يُجَادِلُ فِي اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلَا هُدًى وَلَا كِتَابٍ مُّنِيرٍ ( 20 ) لقمان - الآية 20
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو خدا نے تمہارے قابو میں کر دیا ہے اور تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں پوری کردی ہیں۔ اور بعض لوگ ایسے ہیں کہ خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں نہ علم رکھتے ہیں اور نہ ہدایت اور نہ کتاب روشن
وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا ۚ أَوَلَوْ كَانَ الشَّيْطَانُ يَدْعُوهُمْ إِلَىٰ عَذَابِ السَّعِيرِ ( 21 ) لقمان - الآية 21
اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اُس کی پیروی کرو۔ تو کہتے ہیں کہ ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا۔ بھلا اگرچہ شیطان ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو (تب بھی؟)
وَمَن يُسْلِمْ وَجْهَهُ إِلَى اللَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىٰ ۗ وَإِلَى اللَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ ( 22 ) لقمان - الآية 22
اور جو شخص اپنے تئیں خدا کا فرمانبردار کردے اور نیکوکار بھی ہو تو اُس نے مضبوط دستاویز ہاتھ میں لے لی۔ اور (سب)کاموں کا انجام خدا ہی کی طرف ہے
وَمَن كَفَرَ فَلَا يَحْزُنكَ كُفْرُهُ ۚ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ( 23 ) لقمان - الآية 23
اور جو کفر کرے تو اُس کا کفر تمہیں غمناک نہ کردے ان کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے پھر جو کام وہ کیا کرتے تھے ہم اُن کو جتا ئیں گے۔ بیشک خدا دلوں کی باتوں سے واقف ہے
نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ ( 24 ) لقمان - الآية 24
ہم اُن کو تھوڑا سا فائدہ پہنچائیں گے پھر عذاب شدید کی طرف مجبور کر کے لیجائیں گے
وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ ۚ قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ( 25 ) لقمان - الآية 25
اور اگر تم اُن سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو بول اُٹھیں گے کہ خدا نے۔ کہہ دو کہ خدا کا شکر ہے لیکن ان میں اکثر سمجھ نہیں رکھتے
لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ ( 26 ) لقمان - الآية 26
جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) خدا ہی کا ہے۔ بیشک خدا بےپروا اور سزا وارِ حمد (وثنا) ہے
وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْضِ مِن شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِن بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ( 27 ) لقمان - الآية 27
اور اگر یوں ہو کہ زمین میں جتنے درخت ہیں (سب کے سب) قلم ہوں اور سمندر (کا تمام پانی) سیاہی ہو (اور) اس کے بعد سات سمندر اور (سیاہی ہو جائیں) تو خدا کی باتیں (یعنی اس کی صفتیں) ختم نہ ہوں۔ بیشک خدا غالب حکمت والا ہے
مَّا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ إِلَّا كَنَفْسٍ وَاحِدَةٍ ۗ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ ( 28 ) لقمان - الآية 28
(خدا کو) تمہارا پیدا کرنا اور جِلا اُٹھانا ایک شخص (کے پیدا کرنے اور جلا اُٹھانے) کی طرح ہے۔ بیشک خدا سننے والا دیکھنے والا ہے
أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِي إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى وَأَنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ ( 29 ) لقمان - الآية 29
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور (وہی) دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اُسی نے سورج اور چاند کو (تمہارے) زیر فرمان کر رکھا ہے۔ ہر ایک ایک وقتِ مقرر تک چل رہا ہے اور یہ کہ خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے
ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِن دُونِهِ الْبَاطِلُ وَأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ ( 30 ) لقمان - الآية 30
یہ اس لئے کہ خدا کی ذات برحق ہے اور جن کو یہ لوگ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ لغو ہیں اور یہ کہ خدا ہی عالی رتبہ اور گرامی قدر ہے
أَلَمْ تَرَ أَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللَّهِ لِيُرِيَكُم مِّنْ آيَاتِهِ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ ( 31 ) لقمان - الآية 31
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی کی مہربانی سے کشتیاں دریا میں چلتی ہیں۔ تاکہ وہ تم کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائے۔ بیشک اس میں ہر صبر کرنے والے (اور) شکر کرنے والے کے لئے نشانیاں ہیں
وَإِذَا غَشِيَهُم مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ ۚ وَمَا يَجْحَدُ بِآيَاتِنَا إِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُورٍ ( 32 ) لقمان - الآية 32
اور جب اُن پر (دریا کی) لہریں سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہیں تو خدا کو پکارنے (اور) خالص اس کی عبادت کرنے لگتے ہیں پھر جب وہ اُن کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو بعض ہی انصاف پر قائم رہتے ہیں۔ اور ہماری نشانیوں سے وہی انکار کرتے ہیں جو عہد شکن اور ناشکرے ہیں
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِي وَالِدٌ عَن وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِ شَيْئًا ۚ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ ۖ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِاللَّهِ الْغَرُورُ ( 33 ) لقمان - الآية 33
لوگو اپنے پروردگار سے ڈرو اور اُس دن کا خوف کرو کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے۔ اور نہ بیٹا باپ کے کچھ کام آسکے۔ بیشک خدا کا وعدہ سچا ہے پس دنیا کی زندگی تم کو دھوکے میں نہ ڈال دے۔ اور نہ فریب دینے والا (شیطان) تمہیں خدا کے بارے میں کسی طرح کا فریب دے
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ ( 34 ) لقمان - الآية 34
خدا ہی کو قیامت کا علم ہے اور وہی مینھہ برساتا ہے۔ اور وہی (حاملہ کے) پیٹ کی چیزوں کو جانتا ہے (کہ نر ہے یا مادہ) اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کام کرے گا۔ اور کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کس سرزمین میں اُسے موت آئے گی بیشک خدا ہی جاننے والا (اور) خبردار ہے

کتب

  • مقام صحابہ رضی اللہ عنہمجسطرح قرآن مجيد كي تفسيروتعبير نبي صلى الله عليه وسلم کی سیرت طیبہ کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی بالکل اسی طرح رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کی تعبیروتکمیل اور بقا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل وکردار کے بغیر ممکن نہیں’ کیونکہ صحابہ کرام ہی رسول صلى اللہ علیہ وسلم کے علم کے وارث’آپ کے سفیر اور آپ کے مبلغ ہیں’ سارا دین ان ہی کے توسط سے امت کے پاس پہنچا اور وہ پوری امت کے محسن ہیں. امام ابوبكر الآجري رحمه الله نے بسند حسن امام حسن بصری رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا:"وہ محمد صلى اللہ علیہ وسلم کے اصحاب تھے وہ اس امت کے سب سے زیادہ نیک دل’ سب سے زیادہ گہرا علم رکھنے والے اور سب سے کم تکلّف کرنے والے تھے’ وہ ایسے لوگ تھے جنہیں اللہ تعالى نے اپنے دین کو سرفراز کرنے اور اپنے نبی کی صحبت کیلئے منتخب کیا’ انکے اخلاق واطوار کو اختیارکرو’ ربِ کعبہ کی قسم وہ صراطِ مستقیم پر تھے-" (کتاب الشریعة: 1/1686). /1686). یہ رُتبہ بلند ملا جسکو مل گیا ہرمُدّعى کے واسطے دار و رَسَن کہاں کتاب مذکورمیں محقّقِ عصرعلّامہ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ نے انہی نفوس قدسیہ کے مقام ومرتبہ کواجاگرکرکے ان سے اپنی محبت وعقیدت کا اظہار کیاہے،اوران ميں سے بعض کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں کے فکر کی کجی اور زیع کو بھی طشت ازبام کیاہے بلکہ علامہ ابن الوزیرالیمانی رحمہ اللہ نے جواپنی تمام ترعظمتوں کے باوجود اس مسئلہ میں سلفِ امت سے علیحدگی اختیارکرکے بعض صحابہ کی عدالت کو ہدف تنقید بنایا ہے اسے بھی بے نقاب کیا ہے اور انکی بے اعتدالیوں کو اجاگرکیاہے نہایت ہی مفید کتاب ہے ضرور مطالعہ فرمائیں.

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی - عبد الحى انصارى - طارق محمود ثاقب - محمد خبیب احمد

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/379352

    التحميل :مقام صحابہ رضی اللہ عنہم

  • شیطان کی انسان دشمنی، انتباہ اوربچاؤزيرنظر رسالہ میں شیطان مردود کی انسان دشمنى، اسکے عداوت کے مظاہر،اوراسکے مکروفريب سے بچنے کے مفید طریقے انتہائی شستہ وعام فہم اسلوب میں بیان کئے گئے ہیں.

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    اصدارات : دفتر تعاون برائے دعوت وتوعیۃ الجالیات ، سلی ، ریاض

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/341009

    التحميل :شیطان کی انسان دشمنی، انتباہ اوربچاؤ

  • صحيح مسلمقرآن کریم کے بعد صحیح ترین کتاب صحیح بخاری ہےاوراس کے بعد دوسری کتاب صحیح مسلم ہے جس کے اندر وارد احادیث کی صحت پر امت مسلمہ کا اتفاق ہے، جسے امام مسلم بن حجاج رحمہ اللہ نے تین لاکهـ احادیث کے مجموعہ سے منتخب کرکے مرتب کیا ہے. اس عظیم اور مستند ذخیرہ حدیث کو اردو قالب میں پیش کرنے کا کام علامہ وحید الزمان رحمہ اللہ انجام دیا ہے.نیزحاشیہ میں صحیح مسلم کی معروف شرح "شرح النووی" کےملخص اضافہ نےاس کی افادیت کو دوچند کردیاہے.

    تاليف : مسلم بن حجاج بن مسلم قشیری نیساپوری

    ترجمہ کرنے والا : وحید الزمان

    اصدارات : مکتبہ نعمانیہ اردوبازار لاہور پاکستان

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/90713

    التحميل :صحيح مسلمصحيح مسلم

  • مشکو'ۃ المصابیحمشکو'ۃ المصابیح : زیرنظرکتاب حدیث نبوی صلى الله عليه وسلم کے مشہوراورمتداول مجموعے مشکاۃ المصابیح کا اردوترجمہ ہے جوپانچ جلدوں پرمشتمل چہ ہزارچوارنوے احادیث نبوی صلى الله عليه وسلم کا انمول ذخیرہ ہے جنہیں امام بغوی رحمہ اللہ نے حدیث کی مشہورکتابوں سے منتخب کرکےاسکا نام" مصابیح السنۃ" رکھا تھا اسکے بعد امام تبریزی نے مصابیح السنۃ کی تکمیل کرتے ہوئے اسمیں کچہ اضافہ کیا اوراسکا نام "مشکاۃ المصابیح" رکھا, اس ترجمہ میں حتى' المقدوریہ کوشش کی گئی ہے کہ نہایت سلیس اورعام فہم ہونیزمقصود پرحاوی ہواسکے ساتہ ضعیف احادیث کے متعلق آگاہ کیا گیا ہے اورضعیف احادیث کی طرف نشاندھی کرتے ہوئے اسماء رجال کے مشہورومستند کتاب کے حوالہ جات ذکرکئےٍ گئے ہیں اوراگرکسی حدیث میں کوئی ابہام یا اشکال ہے تونہایت اختصارکے ساتہ اسکی وضاحت کرتے ہوئے مشہورشروح أحادیث اوردیگرمتعلقہ کتب سے حوالہ جات بھی نقل کئے گئے ہیں اورمتون احادیث میں آنے والی آیات کی تخریج اوران کی ہرجلد کے آخرمیں علیحدہ سے فہرست تیا رکردی گئی ہے نیزمذہبی تعصب سے بالاترہوکراختلافی مسائل پربحث سے گریزکیا گیا ہے

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/172207

    التحميل :مشکو'ۃ المصابیحمشکو'ۃ المصابیح

  • درود شريف کے مسائلیوں تو دین اسلام میں بدعات کا اضافہ اب روز مرہ کا معمول بن چکا ہے لیکن اذکاروظائف میں خصوصا اتنی زیادہ خود ساختہ اورغیرمسنون چیزیں شامل کردی گئی ہیں کہ مسنون ادعیہ واذکار طاق نسیاں بن کررہ گئے ہیں- دیگرخود ساختہ اورغیرمسنون اذکارووظائف کی طرح درودوسلام میں بھی بہت سے خود ساختہ اورغیرمسنون درودوسلام رائج ہوچکے ہیں- مثلا درود تاج’ درود لکھی’ درود مقدس’ درود اکبر’ درود ماہی’ درود تنجینا وغیرہ- ان میں سے ہردرود کے پڑھنے کا طریقہ اوروقت الگ الگ بتایا گیا ہے اورانکے فوائد (جوکہ زیادہ تردنیاوی ہیں) کا بھی الگ الگ تذکرہ کتب میں لکھا گیا ہے- مذکورہ درودوں میں سے کوئی ایک درود بھی ایسا نہیں جس کے الفاظ رسول اکرم صلى اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہوں- لہذا انہیں پڑھنے کا طریقہ اوران سے حاصل ہونے والے فوائد از خود باطل ٹھرتے ہیں-

    تاليف : محمد إقبال كيلاني

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    اصدارات : مكتبة دار السلام

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/364706

    التحميل :درود شريف کے مسائل

اختر اللغة

اختر سورہ

کتب

اختر تفسير

المشاركه

Bookmark and Share